ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لال بتی پرروک مگر ریلوے میں ختم نہیں ہوا وی آئی پی کلچر، ہر روز 73 ہزار سیٹیں ہوتی ہیں ریزرو؛ آر ٹی آئی کے ذریعے ہوا انکشاف

لال بتی پرروک مگر ریلوے میں ختم نہیں ہوا وی آئی پی کلچر، ہر روز 73 ہزار سیٹیں ہوتی ہیں ریزرو؛ آر ٹی آئی کے ذریعے ہوا انکشاف

Mon, 25 Dec 2017 20:42:31    S.O. News Service

نئی دہلی، 25؍دسمبر (ایس او نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اپریل 2017 میں ایک بہت بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صدرجمہوریہ ، وزیراعظم اوروزرائے اعلی سمیت تمام وی وی آئی پی کی  گاڑیوں پر لال بتیوں کے استعمال پر روک لگا دی تھی اور کہا تھا کہ ملک کا ہرہندوستانی ایک وی آئی پی ہے۔ مگرتعجب کی بات یہ ہے کہ ریلوے میں وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہوا ہے اور آج بھی  روزانہ 73 ہزار سیٹیں وی آئی پی کوٹہ کے نام پر ریزرو ہوتی ہیں۔

خیال رہے کہ مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ لال  بتی کا چلن کافی پہلے ہی ختم ہو جا نا چاہیے تھا انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بھکت کی ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے  لکھا تھا کہ ایسی شبیہ نئے بھارت کے احساس سے عاری ہوا کرتے ہیں علاوہ ازیں ایک اور ٹویٹ کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مجھے  خوشی ہے کہ آج ایک ٹھوس شروعات ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی خاص ہے، ہر ہندوستانی وی آئی پی ہے ۔

لیکن  کیا یہ وی آئی پی کلچرسچ مچ ختم ہو گیا ہے؟ اس حقیقت کو جاننے کے لئے ایک آرٹی آئی کارکن نے  بھارتی ریلوے  کو  ایک آر ٹی آئی ایپلی کیشنز فائل کیا۔ اور پوچھا کہ ٹرین میں ہرروز کتنی سیٹیں  وی آئی پی  کو ٹے کے تحت ریزرو کی جاتی ہیں ؟ آر ٹی آئی کے ذریعے ریلوے کی وزارت سے گزشتہ دس سال کا اوسط بھی پوچھا گیا تھا ۔ وہیں آر ٹی آئی میں اس حکم کی نقل  بھی مانگی گئی تھی جس کے تحت ریلوے کی وزارت کی طرف سے  وی آئی پی کوٹہ دیا جاتا ہے۔

آر ٹی آئی کے جواب میں کہا گیا کہ اتنی لمبے عرصے کے  مطلوبہ اعداد و شمار کو فراہم کرنا وزارت کے لئے ممکن نہیں ہے۔ وزارت نے بتایاکہ2016-17مالی سال میں روزانہ اوسطا 73,014برتھ کو یعنی کل ریزرو سیٹوں کی 5.15 فیصد سیٹوں کو وی آئی پی کوٹے کے تحت رکھا گیا ۔  اس کوٹہ میں سے روزانہ اوسطاً 27،105  سیٹیں یعنی 1.91 فیصد سیٹیں استعمال کی گئی، بقیہ بچی ہوئی  سیٹیں  ریزرویشن چارٹ کی تیاری کے دوران عام  مسافروں کو  دی گئی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ آر ٹی آئی کے ذریعے پوچھی گئی  معلومات کے جواب میں ان سیٹوں کو وی آئی پی کوٹہ کا نام نہیں دیا گیا ہے ۔ ریلوے کی وزارت کے سرکاری اصطلاحات میں اسےایمرجنسی  کوٹہ   قرار دیا گیا ہے.

 


Share: